شریک کار

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - ساتھ کام کرنے والا، رفیقِ کار، مدد گار، معاون۔ "فرائڈ کے شریک کار جوزف برور نے سب سے پہلے . نفسیاتی نقطہ عیاں کیا۔"      ( ١٩٨٢ء، نفسیاتی تنقید، ٦٤ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'شریک' کے ساتھ کسرہ اضافت لگا کر فارسی لاحقہ 'کار' لگانے سے مرکب اضافی بنا۔ اردو زبان میں بطور صفت اور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٤٧ء کو "مضامین فرحت" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے

مثالیں

١ - ساتھ کام کرنے والا، رفیقِ کار، مدد گار، معاون۔ "فرائڈ کے شریک کار جوزف برور نے سب سے پہلے . نفسیاتی نقطہ عیاں کیا۔"      ( ١٩٨٢ء، نفسیاتی تنقید، ٦٤ )